آپریشن بیلوگا وہیلز ( Operation Beluga whales ) :-
دسمبر 1984 میں روسی بحریہ کی ایک آبدوز نے زیرسمندر ریڈار جسے کہ سونار ( Sonar ) کہتے ہیں کے زریعے امریکہ کی شمال مغربی ریاست الاسکا ( Alaska ) اور سائبیریا کے درمیان حائل چکچی نامی سمندر ( Chukchi sea ) میں یہ انکشاف کیا کہ تقریبآ تین ہزار سفید وہیلز (White whales) جنہیں کہ روسی زبان میں " بیلوگا وہیلز " کہتے ہیں برف کی موٹی تہہ کے نیچے سمندر میں پھنس چکی ہیں جو کہ بہت ہی باعث تشویش بات تھی کیونکہ وہیل دودھ پلانے والے جانور ہیں جن کے گلپھڑے نہیں بلکہ پھیپھڑے ہوتے ہیں اس لیۓ انہیں سانس لینے کے لیۓ سطح سمندر پر آنا پڑتا ہے اور سطح پر برف کی تہہ کی موجودگی میں وہ سانس لینے کے لیۓ سطح پر نہیں پہنچ پائیں گی لہذا دم گھٹنے سے ان کی موت واقع ہو سکتی ہے جس کے بعد اس کی اطلاع فورآ اس دور کے روسی صدر " کانسٹینٹائن چرننکو " ( Konstantin Chernenko ) کو دی گئ جنہوں نے فورآ روسی بحریہ کو ان وہیلز کو وہاں سے نکالنے کے لیۓ برف میں سے راستہ بنانے والے جہازوں ( Ice breaker ships ) بھیجنے کا حکم دیا !
برف توڑنے والے بحری جہازوں ( Ice breaker ships ) کو اس طرح سے ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ وہ برفانی سمندروں اور برف سے جمے ہوۓ دریاؤں اور جھیلوں کی سطح پر جمی ہوئ برف کے اوپر چڑھ کر اپنے بھاری بھرکم وزن سے اس برف کی تہہ کو چٹخ کر کشتیوں اور بحری جہازوں کے لیۓ برف کے بیچ میں سے راستہ بناتے ہیں تاکہ کشتیاں اور بحری جہاز برف کے بیچ میں اپنا سفر بلا تعطل جاری رکھ سکیں !
ان جہازوں نے وہاں پنچنے کے بعد فوری طور پر برف توڑ کر راستہ بنایا جس کی وجہ سے وہیلز اس راستے پر تیرتی ہوئ اس برف پوش جگہ سے باہر نکل آئیں اور یوں اس طرح اس بروقت حکمت عملی سے ان کی جان بچ گئ جو بصورت دیگر دم گھٹنے سے مر سکتی تھیں !
اس واقع کے تین مہینے بعد یعنی کہ 10 مارچ ، 1985 کو روسی صدر چرننکو کا انتقال ہوگیا مگر اپنی وفات سے قبل وہ اپنی زندگی میں یہ نیک کام سر انجام دے گۓ !